نئی دہلی، 22؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) ہیٹ اسپیچ معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو کہا کہ سب سے زیادہ نفرت انگیز تقریر میڈیا اور سوشیل میڈیا پر ہوتی ہے بلکہ چینلزاشتعال انگیزبیانات کا پلیٹ فارم بن گئے ہیں - عدالت نے کہا کہ ہمارا ملک کدھر جارہا ہے؟نفرت کو روکنا ٹی وی اینکروں کی بڑی ذمہ داری ہے، لیکن ٹی وی اینکر مہمان کو وقت تک نہیں دیتے ہیں، ایسے ماحول میں سرکار خاموش کیوں ہے؟ عدالت نے کہا کہ ایک سخت ریگولیٹری مینکانزم قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ نے دو ہفتوں کے اندر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے - اب23نومبر کو سپریم کورٹ اس معاملہ میں اگلی سماعت کرے گا -سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ حکومت پر سوال اٹھائے ہیں - عدالت نے کہا کہ جب دھرم سنسد ہونے جارہی تھی تو آپ نے کیا کارروائی کی؟ کیا آپ نے اس کو روکا؟ اس پر اتراکھنڈ سرکار نے کہا کہ ہم نے دفعہ144لاگو کی اور چار لوگوں کو گرفتار کیا- وہیں ریاستی سرکار کارروائی کررہی ہے -جسٹس جوزف نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی مذہب تشدد کی تشہیر کرتا ہے- عدالت نے کہا کہ ان معاملات میں سزا ایسی ہونی چاہئے کہ وہ ایک ماڈل بن جائے -عدالت نے کہا کہ کوشش کرنی چاہئے کہ وشاکھا گائیڈلائن کی طرح حدود کے اندر ہم جو کرسکتے ہیں، وہ کریں - عدالت نے کہا کہ اصلی پریشانی ادارے ہیں، مذہب کیا ہے یہ مت دیکھئے؟
نفرت انگیز تقاریر کا فائدہ صرف سیاستدانوں کو:سماعت کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ نفرت انگیز تقریر سے سیاست دان سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور ٹیلی ویژن چینلز انہیں اس کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں - سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے کہا- چینل اور سیاست دان اس طرح کی نفرت انگیز تقریر پر چلتے ہیں - چینلز کو پیسے ملتے ہیں تو وہ دس لوگوں کو بحث میں رکھتے ہیں -